رائے پور،14؍دسمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) چھتیس گڑھ کے وزیر اعلی بھوپش بھگیل نے کہا کہ عام لوگوں، کسانوں، قبائلیوں اور کمزور طبقات کو بااختیار بنانا چھتیس گڑھ کے ترقیاتی ماڈل کی اہم خصوصیت ہے، بھوپیش بگھیل نے آج ریڈیو پرنشر ماہانہ ریڈیو ٹاک لوک وانی کی 13 ویں قسط میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دو برسوں کی حکومت میں لوگوں کے جذبات اور امیدوں پر کھرا اترتے ہوئے انتظامی امور کو آسان بنانے کی ریاستی حکومت نے کوشش کی ہے۔ چھتیس گھڑی ثقافت کو فروغ دے کر لوگوں کے من میں اپنی ثقافت اور شناخت کا جذبہ ایک مرتبہ پھر پیدا کیا ہے۔
بھوپیش بگھیل نے کہا کہ ریاستی حکومت نے کسانوں کے لئے قرض معافی، دھان خریداری، سوراجی گاؤں، راجیو گاندھی کسان نییائے یوجنا اور گودھن نیائے یوجنا جیسی متعدد اسکیمیں نافذ کیں، جس سے دیہات کو مستقل طاقت مل رہی۔ اس کے ساتھ ہی ریاستی حکومت کی پالیسیوں کا صنعت اور کاروباری شعبے میں بھی مثبت اثر دیکھا گیا۔ پورا ملک کورونا بحران کے دوران کساد بازاری سے متاثر ہوا تھا، جبکہ چھتیس گڑھ کساد بازاری سے مبرا رہا۔
بھوپیش بگھیل نے کہا کہ ہم نے ایسے انتظامات کیے ہیں کہ چھتیس گڑھ کے عوام کے دل میں اپنی روایات، اپنے ورثہ، اپنی ثقافت و شناخت کے حوالے سے جو جذبہ صدیوں سے تھا اور جو ریاست کے قیام کے بعد کمزور ہو گیا تھا۔ اسے جلد از جلد بحال کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ چھتیس گڑھ کی شناخت لوک ریاست کے طور پر ہے۔ ہر جگہ کی اپنی روایات اور ثقافت ہے۔
انہوں نے کہا کہ دو سال قبل جب ہمیں حکومت کی بھاگ ڈور ملی تو ہمارے سامنے سب سے بڑا چیلینج چھتیس گڑھ میں انصاف کی روایت کو زندہ کرنا تھا، جو ڈیڑھ دہائی میں کمزور ہوگئی تھی۔ مجھے خوشی ہے کہ چھتیس گڑھ کے عوام نے ہماری ترقیاتی پالیسیوں، منصوبوں، پروگراموں اور مہموں پر اعتماد کا اظہار کیا اور ان دو برسوں میں انصاف کی بحالی کے لئے ہماری مدد کی۔ بھوپیش بھگیل نے کہا کہ ہم بنیادی ڈھانچہ کے ساتھ ساتھ صنعت اور کاروباری شعبے کو بھی صحیح سمت میں لے جانے میں کامیاب رہے ہیں۔